Ghazal

تم دیر کر دو گے
تمہیں ایک دن میرا احساس ہو جائے گا،
مگر تم دیر کر دو گے ۔
اور اتنی دیر کہ میری قبر کی مٹی بھی خشک ہو جائے گی،
ہاں ایسا ہوگا،
اک دن اچانک ہی تمہیں میرا خیال آئے گا،
میری باتیں، میرا لہجہ
میری سچائیاں تمہیں اپنی اور کھینچیں گی،
تم بے اختیار ہو کر اٹھوگے ،
میرا نمبر ملاؤ گے ۔
مجھے بلوانا چاہو گے ۔
تو کوئی دوسری آواز تم سے کہے گی،
وہ دیوانی ،،،ارے وہ تو کب کی مر گئی،
ہاں۔۔۔۔۔۔۔آپ کون؟
تمہارے ہاتھ سے ریسیور چھوٹ جائے گا،
پاؤں لرزنے لگیں گے،
رنگ اڑ جائے گا،
تم کانپتے نرم لہجے میں
میری آخری آرامگاہ کا پتہ لو گے ،
وہاں آؤ گے
میرا کتبہ پڑھو گے ۔
پھر رو دو گے ،
پھر، کوئی آگے بڑھے گا،
تمھارے شانوں پہ ہاتھ رکھ کے دلاسہ دے گا،
تم سے پوچھے گا…..
،،یہ کس کی قبر ہے؟؟
جسے آنسوؤں میں ڈبونے لگے ہو،
ایسے کیوں رو رہے ہو؟؟؟
تم دائیں ہاتھ کی دوسری انگشت سے،
اپنے اشک کو پونچھو گے
ایڑیوں کے بل جھکو گے ۔
میرے کتبے کو ہلکا سا چھو کے کہو گے ۔
زندگی بھر اسے دکھ ہی دیئے،
اور اب یہ دکھ دے گئی ہے،
دکھ بھی ایسا جس کا مداوا نہیں ہے،
میں عمر بھر اس سے بے خبر رہا
اور یہ ہر لمحہ میرا پتہ رکھتی رہی
یہ جس قدر مجھے یاد رکھتی رہی،
میں اتنا بھلاتا رہا ،
ہاں، یہاں وہ لڑکی محو خواب ہےِ،
جس کے لیے میں سراب تھا
ٰیہاں ،وہ دیوانی پرسکوں سو رہی ہے،
جس کی آنکھیں نیند کا ذائقہ کھو چکی تھیں،
اِس نے محبت عبادت سمجھ کے کی،
بس میں صلہ نہ دے سکا
آج پہلی دفعہ…..
اس کی معصوم خواہش کی تکمیل کو آگیا ہوں،
یہ چند اشک تو اس کا صدقہ ہیں،
میں جانتی ہوں،
ایسا ایک دن ہو گا،
کہ پہلی دفعہ تمہیں میرا احساس ہو گا،
مگر! میں وہاں جا چکی ہوں گی…
جہاں سے واپسی ممکن نہیں ہو سکتی…

M: Bilal

Published by MUHAMMAD BILAL

Online Service Provider

Leave a comment

Design a site like this with WordPress.com
Get started