جلوہ طور ہے یا طور سے آگے کچھ ہے
فقط دید نہیں یہ دید سے آگے کچھ ہے
میں بے حواس ہوا اور پھر تجھے دیکھا
کیا یہی وجد ہے یا وجد سے آگے کچھ ہے
اس کا ہر تِیر میرے قلب کو سکوں بخشے
گویا یہ عشق نہیں عشق سے آگے کچھ ہے
تھکن سے چُور ہوں ہمت مگر نہیں ہارا
سفر تمام ہوا یا اس سے بھی آگے کچھ ہے ؟
بھلے وہ دور ہو، خیالوں میں تو میسر ہے
یعنی یہ وصل نہیں وصل سے آگے کچھ ہے
میری مجال کیا صائم کروں شکوہ اس سے
وہ میری جاں ہی نہیں جان سے آگے کچھ ہے
M: Bilal