Ghazal

جلوہ طور ہے یا طور سے آگے کچھ ہے
فقط دید نہیں یہ دید سے آگے کچھ ہے


میں بے حواس ہوا اور پھر تجھے دیکھا
کیا یہی وجد ہے یا وجد سے آگے کچھ ہے

اس کا ہر تِیر میرے قلب کو سکوں بخشے
گویا یہ عشق نہیں عشق سے آگے کچھ ہے

تھکن سے چُور ہوں ہمت مگر نہیں ہارا
سفر تمام ہوا یا اس سے بھی آگے کچھ ہے ؟


بھلے وہ دور ہو، خیالوں میں تو میسر ہے
یعنی یہ وصل نہیں وصل سے آگے کچھ ہے

میری مجال کیا صائم کروں شکوہ اس سے
وہ میری جاں ہی نہیں جان سے آگے کچھ ہے

M: Bilal

Published by MUHAMMAD BILAL

Online Service Provider

Leave a comment

Design a site like this with WordPress.com
Get started