Ghazal

وقت غروب آج کرامات ہو گئی
زلفوں کو اس نے کھول دیا رات ہو گئی

کل تک تو اس میں ایسی کرامت نہ تھی کوئی
وہ آنکھ آج قبلۂ حاجات ہو گئی

اے سوز عشق تو نے مجھے کیا بنا دیا
میری ہر ایک سانس مناجات ہو گئی

اوچھی نگاہ ڈال کے اک سمت رکھ دیا
دل کیا دیا غریب کی سوغات ہو گئی

کچھ یاد آ گئی تھی وہ زلف شکن شکن
ہستی تمام چشمۂ ظلمات ہو گئی

اہل وطن سے دور جدائی میں یار کی
صبر آ گیا فراقؔ کرامات ہو گئی

M: Bilal

Published by MUHAMMAD BILAL

Online Service Provider

Leave a comment

Design a site like this with WordPress.com
Get started