اے روحِ مکیں
اگر زندگی ہم پر مہربان نہیں ہوئی
اور ہم کسی ایسے راستے پر جدا ہوئے
جہاں امیدوں کے شجر
جڑ سے اکھاڑ پھینکیں گئے ہوں
اور زمین نمی سے نرم پڑ چکی ہو
جس پر قدموں کے نشان
داغ کی مانند پڑ سکتے ہوں
تو میرے ساتھ آخری بار
چند قدم بڑھاؤ
میں سمجھوں گی کہ ہم وقت کی قالب میں
لامحدود مدت کے لئے ڈھل گئے ہیں
تم بے شک میرا ہاتھ چھوڑ دو
میں پھر بھی اپنی انگلیوں میں
تمہاری انگلیاں ڈھونڈوں گی
اور زمین پر فقط ہمارے قدم رہیں گےجس میں ہم ہمیشہ ساتھ ہوں گے